احمدآباد،14؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ہندوستان اور جاپان کے مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے مسئلے پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔نریندر مودی اور شنجے آبے نے پاکستان سے ممبئی حملوں اور پٹھان کورٹ میں مجرمین کو سزا دینے کے لئے کہا ہے،دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جاپان ۔ہند مشورے آگے آگے بڑھانے کی بات کی ہے۔مشترکہ بیان میں دہشت گردانہ تنظیموں القاعدہ، آئی ایس آئی، جیش محمد اور لشکر طیبہ مشترکہ تعاون کواور مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔دونوں رہنما نے سیکیورٹی اور سمندری علاقے میں قزاقوں کے خلاف جنگ کو لے کر اپنے عزم کا اعادہ کیا۔اس کے علاوہ سمندری ڈاکوؤں سے لڑنے اوردیگر منظم جرموں سے نمٹنے کے لئے علاقائی اور بین الاقوامی میکانیزم بنانے کی بات کہی ہے۔
مودی اورآبے نے شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں اور بیلسٹکسٹک میزائل کے پروگراموں کی سخت مذمت کی،دونوں رہنما نے حال ہی میں 3ستمبر کو شمالی کوریا کی طرف سے کئے جانے والے جوہری ٹیسٹ بھی کا ذکر کیا۔ہندوستان اور جاپان نے شمالی کوریا کے ایٹمی اور میزائل پروگراموں کی حمایت کرنے والی تمام جماعتوں کے احتساب کے فیصلے کے بارے میں بات کی ہے،دونوں ممالک نے شمالی کوریا سے جلدسے جلداسے روکنے کوکہاہے۔
مودی اور آبے نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندانہ تشدد کے خلاف مضبوط بین الاقوامی شراکت داری بنانے کی بات کہی ہے۔اس میں انفارمیشن اور انٹیلی جنس شیئرکئے جانے کی بھی بات ہے،یہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کا معاملہ ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے شنجو آبے کے ساتھ مشترکہ بیان میں کہا کہ جاپان ہمارے لئے ایک اہم اتحادی ہے۔ممبئی-احمد آباد ہائی سپیڈ ریل پروجیکٹ ایک اہم منصوبہ ہے،ہندوستان اور جاپان کے درمیان تعلقات میں مواصلات بہت اہم ہے۔انہوں نے کہاکہ جاپان کے آخری دورے پر ہم نے جوہری معاہدے پر دستخط کیے ہیں،صاف توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کی ہماری کوشش بہت اہم ہے۔جاپان نے 2016-17میں ہندوستان میں 4.7بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو گزشتہ سال سے 80فیصد زیادہ ہے،یہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔